اسکینڈے نیوین نیوز اردو

سمندری میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجراء سے زمینداروں کے حق...
سمندری میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجراء سے زمینداروں کے حقوق محفوظ

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

سمندری، پنجاب | فروری 2026

حکومتِ پنجاب اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) نے اراضی ریکارڈ کے جدید اور شفاف نظام کے تحت سمندری میں گرین

پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجراء کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد زمینداروں کے اراضی کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ

اراضی کے ریکارڈ میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر قمر محمود منج نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف زمینداروں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا

بلکہ جعلی کاغذات کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب زمیندار اپنے ریکارڈ کو محفوظ اور قابل اعتماد طریقے

سے حاصل کر سکیں گے، جو اراضی کے مسائل کو کم کرنے میں ایک اہم قدم ہے۔

پہلا گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ

پہلا گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ چک نمبر 45 گ ب کے زمیندار نذیر احمد گل کو جاری کیا گیا۔ اس موقع پر انچارج اراضی ریکارڈ

سنٹر محمد نعمان خالد، محمد عمران اور عتیق رندھاوا بھی موجود تھے۔

نذیر احمد گل نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ یہ زمینداروں کو قانونی تحفظ فراہم کرے گا

اور اراضی سے متعلق مسائل میں واضح کمی لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے اراضی کے لین دین اور زمین کی ملکیت میں

شفافیت بڑھے گی اور زمیندار با آسانی اپنے ریکارڈ کا جائزہ لے سکیں گے۔

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کیا ہے؟

پہلا گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ایک ڈیجیٹل اور شفاف ریکارڈ ہے، جو زمیندار کی زمین کی قانونی ملکیت کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ

سرٹیفکیٹ نہ صرف زمین کے ریکارڈ کو محفوظ بناتا ہے بلکہ زمین سے متعلق کسی بھی قسم کے جھوٹے یا جعلی دعووں کے

امکان کو بھی ختم کرتا ہے۔

حکام کے مطابق گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے ذریعے زمیندار:

  • زمین کی ملکیت کے قانونی حق کا ثبوت حاصل کریں گے
  • اراضی سے متعلق جعلی دستاویزات اور دھوکہ دہی سے محفوظ رہیں گے
  • زمین کے لین دین میں آسانی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا
  • شہریوں کے اراضی کے مسائل میں خاطر خواہ کمی آئے گی

پنجاب میں اراضی کے ریکارڈ کا جدید نظام

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے اراضی ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اس نظام کے تحت زمیندار اپنے اراضی

کے ریکارڈ کو آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے محفوظ کر سکتے ہیں۔

اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کو سہولت میسر آئے گی بلکہ زمین سے متعلق سرکاری ریکارڈ میں بھی شفافیت بڑھے گی۔ اس

کے علاوہ، زمین کے لین دین کے دوران غلط معلومات یا جھوٹے دعووں کا امکان تقریباً ختم ہو جائے گا۔

شہریوں اور زمینداروں کے لیے فوائد

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجراء سے زمیندار اور شہری کئی طرح کے فوائد حاصل کریں گے:

  1. قانونی تحفظ: زمیندار اپنی زمین پر مکمل قانونی حق رکھتے ہیں اور کسی بھی جھوٹے دعوے سے محفوظ رہیں گے۔
  2. شفافیت: اراضی کے لین دین اور ریکارڈ میں مکمل شفافیت ہوگی۔
  3. ڈیجیٹل ریکارڈ: سرٹیفکیٹ کی بدولت زمیندار آن لائن اپنے ریکارڈ کو بھی دیکھ اور تصدیق کر سکتے ہیں۔
  4. سرکاری تسلیم شدہ دستاویز: یہ سرٹیفکیٹ سرکاری سطح پر تسلیم شدہ دستاویز ہوگا۔
  5. وقت کی بچت: زمین کے لین دین اور ریکارڈ کی جانچ میں وقت کی بچت ہوگی۔

حکومتی اقدامات اور مستقبل کے منصوبے

اسسٹنٹ کمشنر قمر محمود منج نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت مزید زمینداروں تک یہ سہولت جلد پہنچانے کے لیے اقدامات کر

رہی ہے۔ حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ تمام زمینداروں کو جلد سے جلد گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا اور اراضی کے

ریکارڈ میں کسی قسم کی غیر شفافیت یا دھوکہ دہی کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس اقدام کا مقصد زمین کے معاملات میں شفافیت، قانونی تحفظ اور زمینداروں کے

حقوق کا تحفظ ہے۔ حکام نے کہا کہ یہ اقدام پنجاب میں زمین سے متعلق کاروبار اور روزمرہ لین دین کو آسان بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔

نتیجہ اور اہمیت

سمندری میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجراء سے زمینداروں کو اپنے اراضی ریکارڈ پر مکمل اعتماد حاصل ہوگا۔ یہ اقدام نہ

صرف شہریوں کے مسائل کم کرے گا بلکہ زمین کے معاملات میں شفافیت اور اعتماد پیدا کرے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ زمین کے

ریکارڈ کو محفوظ بنانا اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ پنجاب کے بارے میں مزید تفصیلات اور زمینداروں کے لیے فوائد یہاں ملاحظہ کریں۔