google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

اسکینڈے نیوین نیوز اردو

رانی پور میں دس سالہ بچی کے قتل کا واقعہ: پیر کی حمایت اور ق...
رانی پور میں دس سالہ بچی کے قتل کا واقعہ: پیر کی حمایت اور قانونی ناکامی

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

شمائلہ اسلم

ایس این این نیوز

بیورو چیف پاکستان

رانی پور، سندھ: سندھ کے علاقے رانی پور میں ایک بااثر پیر نے دس سالہ گھریلو ملازمہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اسے

قتل کر دیا، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے پورے علاقے میں خوف و صدمہ پیدا کر دیا۔ ایس این این نیوز پاکستان بیورو چیف

شمائلہ اسلم کے مطابق واقعے کی تفصیلات اور ذمہ دار افراد کی موجودگی نے عوام میں شدید تشویش پیدا کی ہے۔

پیر کی حمایت، قانونی ناکامی اور سماجی اثرات

واقعے کے بعد مقامی سطح پر پیر کی حمایت میں کئی پکے اور کچے کے افراد میدان میں اتر آئے، جس سے قانون نافذ کرنے والے

اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ متاثرہ بچی کے قاتل پیر آج بھی اپنی گدی پر موجود ہے اور

اسے عوام کی جانب سے عزت اور احترام دیا جا رہا ہے۔

اس واقعے نے نہ صرف رانی پور بلکہ پورے سندھ میں بچوں کی حفاظت اور قانونی نظام کی کارکردگی پر ایک بار پھر روشنی

ڈالی ہے۔ مقامی پولیس اور سندھ حکومت کے متعلقہ محکمے اس معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں اور عوام سے اپیل

کی گئی ہے کہ وہ انصاف کے لیے تعاون فراہم کریں۔

پس منظر اور ٹائم لائن

  • واقعہ رانی پور، سندھ میں پیش آیا، جہاں متاثرہ بچی دس سالہ تھی۔
  • سی سی ٹی وی فوٹیج نے واقعے کی شدت اور دردناک صورتحال سب کے سامنے لا دی۔
  • پیر کے حمایتی افراد نے قانونی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔
  • متاثرہ بچی کے اہل خانہ اور مقامی کمیونٹی نے فوری انصاف کی اپیل کی۔

قانونی اور سماجی اثرات

یہ واقعہ بچوں کے حقوق، قانونی نظام کی کمزوری، اور معاشرتی رویوں پر سوالات پیدا کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے اور

بچوں کے تحفظ کے محکمے اس معاملے میں مستقل نگرانی کر رہے ہیں۔ سماجی شعور اجاگر کرنے کے لیے میڈیا رپورٹس اور

عوامی آگاہی مہمات جاری ہیں۔

سندھ میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کی خبریں