Table of Contents
Toggle840 مشکوک پنشن آئی ڈیز کے ذریعے اربوں کی ادائیگیاں، نیب ٹیم کا خاموش دورہ
جیکب آباد — سندھ کے شہر جیکب آباد میں سامنے آنے والا پنشن اسکینڈل سرکاری خزانے کے تحفظ، مالی نگرانی اور احتسابی
نظام کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق 840 مشکوک یا جعلی پنشن آئی ڈیز کے ذریعے ایک ارب 26 کروڑ 89
لاکھ 63 ہزار 444 روپے سے زائد کی رقم نکلوائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب نیب کی ایک ٹیم نے پیش رفت کے سلسلے میں ضلعی خزانہ آفس جیکب آباد کا
دورہ کیا، تاہم دورے کے دوران میڈیا کو کسی قسم کا باضابطہ موقف فراہم نہیں کیا گیا۔
نیب ٹیم کی آمد، ملاقات اور واپسی
ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق نیب افسران نے ایڈیشنل اکاؤنٹ آفیسر کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد نیب ٹیم نے
ظہرانہ کیا اور پھر واپس روانہ ہو گئی۔ جب میڈیا نمائندگان نے نیب افسران سے مؤقف لینے کی کوشش کی تو بات کرنے سے انکار کر دیا گیا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ میڈیا کی موجودگی کے باعث نیب ٹیم کو دفتر کے عقبی دروازے سے گاڑی میں روانہ کیا گیا۔ اس غیر
معمولی روانگی نے شفافیت اور طریقۂ کار پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عقبی دروازے سے روانگی پر سوالات
نیب ٹیم کی عقبی دروازے سے روانگی نے شہری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس
مالیاتی کیس میں اداروں کو زیادہ شفاف رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہتا۔
اہم سوالات جو ابھر کر سامنے آ رہے ہیں:
- میڈیا سے مؤقف چھپانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
- کیا تحقیقات کا دائرہ محدود رکھا جا رہا ہے؟
- کیا تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق شامل تفتیش کیا جا رہا ہے؟
اینٹی کرپشن کی کارروائی اور نامزد افسران
اس سے قبل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ اس اسکینڈل کے حوالے سے درج مقدمے میں خزانہ آفس کے 11 افسران اور ملازمین
کو نامزد کر چکی ہے۔ ان میں سے دو ملازمین کو نوکری سے برطرف بھی کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر نامزد افراد کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ مشکوک پنشن آئی ڈیز طویل عرصے تک فعال رہیں اور باقاعدگی سے ان کے ذریعے رقوم کی ادائیگیاں
ہوتی رہیں، جو نظام کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
نگرانی اور تصدیقی نظام پر بڑا سوال
یہ پنشن اسکینڈل اسکینڈل آڈٹ، بائیومیٹرک تصدیق اور بینکنگ ویریفکیشن جیسے دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا
ہے کہ اگر یہ تمام نظام مؤثر طریقے سے کام کر رہے تھے تو اتنی بڑی رقم برسوں تک کیسے جاری ہوتی رہی؟
ماہرین کے مطابق ایسے کیسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ:
- اندرونی نگرانی کا نظام کمزور ہے
- ڈیجیٹل اور بائیومیٹرک چیکس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا
- بینک اور خزانہ محکموں کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن کا فقدان ہے
عوامی ردعمل اور مطالبات
شہری حلقوں اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پنشن اسکینڈل کی آزاد، شفاف اور جامع تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا
ہے کہ صرف نچلے درجے کے ملازمین نہیں بلکہ اصل ذمہ دار افسران کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
عوامی مطالبات میں شامل ہیں:
- مکمل تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے
- ریکوری کا واضح طریقہ کار بتایا جائے
- مستقبل میں ایسے پنشن اسکینڈل اسکینڈلز کی روک تھام کے لیے اصلاحات کی جائیں
احتسابی نظام کے لیے کڑا امتحان
جیکب آباد کا یہ پنشن اسکینڈل نہ صرف مالی بدعنوانی کا معاملہ ہے بلکہ یہ پاکستان کے احتسابی اور مالی نگرانی کے نظام
کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ اگر اس کیس کو شفاف اور منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو عوام کا اعتماد مزید کمزور ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پنشن اسکینڈل اسکینڈل کا انجام آئندہ کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے، بشرطیکہ تحقیقات غیر جانبدار، کھلی اور قانون
کے مطابق مکمل کی جائیں۔ بصورت دیگر، یہ معاملہ بھی دیگر مالیاتی اسکینڈلز کی طرح فائلوں میں دبنے کا خدشہ رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ میں مالی بدعنوانی کے دیگر مقدمات اور احتسابی کارروائیوں کی تفصیل۔
