اسکینڈے نیوین نیوز اردو

بھاٹی گیٹ حادثہ اداروں کے متضاد بیانات پر سوالات
“Bhati Gate Lahore manhole accident scene with emergency response vehicles and officials, highlighting controversy over responsibility and conflicting statements by authorities.”

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

اسد قاضی


بیورو چیف، لاہور

لاہور میں بھاٹی گیٹ مین ہول حادثے سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے

کی ذمہ داری کمشنر لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے اور چیف انجینئر ٹیپا پر عائد کرتی ہیں، تاہم عملی طور پر قربانی کا بکرا ایک

پرائیویٹ ٹھیکیدار اور چند نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کو بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق حالانکہ ٹیپا چیف انجینئر، ڈی جی ایل ڈی اے کے ماتحت ہے اور ٹیپا، ایل ڈی اے کا ذیلی ادارہ ہے، اس کے باوجود

اعلیٰ افسران کے خلاف فوری کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ماضی میں لاہور کے ترقیاتی منصوبوں پر روزانہ کی بنیاد پر

فوٹو سیشن اور پریس ریلیز جاری کی جاتی رہیں، مگر داتا دربار توسیعی منصوبے کے دوران تمام تر ذمہ داری پرائیویٹ

ٹھیکیدار پر ڈال کر متعلقہ اداروں نے مبینہ طور پر آنکھیں بند رکھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہیے تھا کہ وہ سب سے پہلے ڈی جی ایل ڈی اے کو عہدے سے ہٹاتیں۔

دوسری جانب، بھاٹی گیٹ مین ہول حادثے کے معاملے میں مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے واقعے کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے

کی مبینہ کوششیں سامنے آئی ہیں۔ محکمہ ہاؤسنگ پنجاب اور اس کے ذیلی اداروں پر الزام ہے کہ انہوں نے واقعہ چھپانے اور

معاملے کا رخ بدلنے کی کوشش کی۔

ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے، ٹیپا اور واسا کی جانب سے متضاد اور گمراہ کن بیانات سامنے آئے، جبکہ حادثے کے بعد تقریباً پانچ

گھنٹے تک متعلقہ ادارے یہ تصدیق بھی نہ کر سکے کہ واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں۔ بعد ازاں مبینہ طور پر اوپر سے احکامات ملنے

پر ذیلی اداروں نے اپنی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کیں۔

لاہور کے شہری مسائل اور پنجاب حکومت سے متعلق مزید خبریں SNN News Finland پر پڑھیں۔