شمائلہ اسلم
بیورو چیف پاکستان
پشاور: پاکستان کے مایہ ناز فٹبالر حمید خان غربت اور حکومتی عدم
توجہی کے باعث اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لیے پلمبری کا کام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
حمید خان، جو قومی فٹبال ٹیم کی جانب سے انٹرنیشنل سطح پر
شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں، آج اپنے گھر کا خرچ چلانے
کے لیے گھر گھر جا کر پلمبری کرتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے حمید
خان نے 2010 میں پریمیئر لیگ کھیلی، تین برس تک قومی ٹیم کے
ساتھ رہے اور اس دوران 12 ممالک کے دورے کیے۔ ان کی صلاحیتوں
کے اعتراف میں انہیں سوئی سدرن گیس کمپنی میں ملازمت بھی
ملی، تاہم حکومتی فیصلے کے تحت ڈپارٹمنٹل اسپورٹس بند ہونے پر
وہ نوکری سے محروم ہوگئے۔
نوکری ختم ہونے کے بعد مالی مشکلات نے انہیں اس نہج پر پہنچا دیا
کہ فٹبال چھوڑ کر مزدوری کرنی پڑی۔ حمید خان کا کہنا ہے کہ
“فٹبال میرے خون میں بسی ہوئی ہے لیکن غربت نے مجھے اپنا
کیریئر جاری رکھنے نہیں دیا۔ اب خاندان کی کفالت کے لیے یہی
راستہ بچا تھا۔”
یہ صرف حمید خان کی کہانی نہیں، بلکہ پاکستان کے کئی قومی
فٹبالرز اور ہاکی کھلاڑی بھی اسی طرح کے حالات کا سامنا کر رہے
ہیں۔ جو کھلاڑی کبھی ملک کا نام روشن کرنے کا خواب دیکھتے تھے،
آج اپنے ہی وطن میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔