توانائی کی عالمی سپلائی پر خدشات، بھارت کی انرجی سیکیورٹی زیر بحث
امریکہ نے بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے درمیان بھارت کو روس سے خام تیل خریدنے کے لیے عارضی طور پر 30 دن کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے
وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ممکنہ دھمکیوں نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اجازت ایک عارضی اقدام ہے جس کا مقصد عالمی توانائی کی سپلائی کو مستحکم رکھنا اور بھارت جیسے بڑے تیل درآمد کرنے والے ملک کی توانائی ضروریات کو فوری طور پر متاثر ہونے سے بچانا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے بعد بھارت کے اندر سیاسی بحث بھی شدت اختیار کر گئی ہے اور اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہ تنگ سمندری گزرگاہ خلیج فارس کو خلیج
عمان اور بحر ہند سے ملاتی ہے اور مشرق وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل روزانہ اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس راستے کو بند کر دیا جائے تو عالمی تیل
منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
ایران ماضی میں بھی یہ اشارہ دے چکا ہے کہ اگر اس پر دباؤ یا پابندیاں بڑھائی گئیں تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر عالمی طاقتیں اس خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بھارت کے لیے توانائی کی فراہمی کا چیلنج
بھارت دنیا کے بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی معیشت کا بڑا حصہ بیرونی توانائی سپلائی پر انحصار کرتا ہے۔ روس سے سستا خام تیل خریدنا گزشتہ چند برسوں میں بھارت کی توانائی پالیسی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔
روس اور یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے باوجود بھارت نے رعایتی قیمتوں پر روسی تیل خریدنا جاری رکھا۔ اس حکمت عملی سے بھارت کو اپنی توانائی لاگت کم رکھنے میں مدد ملی، تاہم اس پر بین الاقوامی سطح پر بھی تنقید ہوتی رہی۔
امریکہ کی جانب سے دی گئی 30 دن کی اجازت کو ماہرین ایک عبوری حل قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی سپلائی چین پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
بھارتی سیاست میں نئی بحث
اس فیصلے کے بعد بھارت کے اندر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
راہول گاندھی نے کہا کہ حکومت کی توانائی پالیسی نے بھارت کی خود مختاری کو کمزور کر دیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کو اپنی توانائی سیکیورٹی کے فیصلے خود کرنے چاہئیں نہ کہ بیرونی دباؤ کے تحت۔
انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت کی توانائی پالیسی اب آزادانہ نہیں رہی بلکہ عالمی طاقتوں کے فیصلوں سے متاثر ہو رہی ہے۔
عالمی منڈیوں پر ممکنہ اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی یا وہاں بحری آمد و رفت متاثر ہوئی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
اس طرح کی صورتحال میں تیل درآمد کرنے والے ممالک کو متبادل سپلائی ذرائع تلاش کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ سمیت کئی ممالک خطے کی صورتحال کو مستحکم رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی توانائی سلامتی کے لیے اہم مرحلہ
حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی توانائی کی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے۔ بڑی معیشتیں اپنی توانائی ضروریات کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف سفارتی اور معاشی اقدامات کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق آنے والے ہفتوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران کے اقدامات اور عالمی طاقتوں کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھنا ضروری ہوگا کیونکہ ان عوامل کا براہ راست اثر عالمی توانائی منڈیوں اور اقتصادی استحکام پر پڑ سکتا ہے۔