اسکینڈے نیوین نیوز اردو

آئی ایم ایف نے دسمبر تک افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کی شرط

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

شمائلہ اسلم


ایس این این اردو نیوز


بیورو چیف پاکستان

آئی ایم ایف نے پاکستان کو ہدایت دی ہے کہ وہ دسمبر 2025 تک

ایسا نظام تشکیل دے جس کے تحت گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری

افسران کے اثاثے عوام کے سامنے ظاہر کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کی GCD رپورٹ نے پبلک فنانس

مینجمنٹ، ایف بی آر کے ٹیکس نظام اور اے جی پی آر کی کارکردگی

میں خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان سے اصلاحاتی

سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ٹائم لائنز بھی طلب کی گئی ہیں۔

اثاثہ جات ڈیکلیریشن کے لیے گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 1964

میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے تاکہ افسران کے اثاثوں کی معلومات

کو ڈیجیٹل بنایا جا سکے۔ پاکستان نے اس تجویز سے اتفاق کر لیا ہے۔

فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ تاخیر ملک کے اصلاحاتی وعدوں پر منفی اثر

ڈال سکتی ہے۔ ایف بی آر کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ

ڈویژن کو تکنیکی مدد فراہم کرے اور غلط یا نامکمل ڈیکلیریشنز کی

نشاندہی کرے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے دسمبر تک اعلیٰ افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔