رفعت کوثر
ایس این این اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری احتجاج کے تناظر میں نئے فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ
مظاہرین کے خلاف ایرانی حکومت کے ممکنہ کریک ڈاؤن کی صورت میں سخت کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، تاہم
ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
یہ احتجاج دسمبر کے آخر میں کرنسی بحران سے شروع ہوا اور پورے ملک میں پھیل گیا، جس میں درجنوں مظاہرین ہلاک ہو چکے
ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی، جبکہ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایرانی
عوام کی حمایت کرتے ہوئے “بہت سخت ضرب” کی دھمکی دی۔
امریکی حکام کے مطابق زیر غور آپشنز میں تہران کے غیر فوجی اہداف بھی شامل ہو سکتے ہیں، مگر خدشہ ہے کہ کسی حملے
سے ایرانی عوام حکومت کے حق میں متحد نہ ہو جائیں یا امریکی فوجی اور سفارتی مفادات کے خلاف جوابی کارروائیاں نہ شروع ہو جائیں۔
اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ کیا، اور حالیہ وینزویلا پر امریکی
کارروائی کے بعد واشنگٹن میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی دھمکیوں پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ جون میں “مڈنائٹ ہیمر” کے تحت ایران کے جوہری مراکز پر حملے، ایران کی جوابی میزائل
کارروائیاں، اور بغداد میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت سمیت، ٹرمپ کے دور میں مختلف خطوں میں فوجی طاقت
پہلے بھی استعمال ہو چکی ہے۔
مزید بین الاقوامی خبریں اور ایران کی تازہ صورتحال ہمارے عالمی خبریں سیکشن میں پڑھیں۔
