حماد کاہلوں
اسلام آباد بیورو چیف
ایس این این نیوز
فیصل آباد کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی تین بوڑھی عورتیں، جن کی عمر تقریباً 75 سال ہے، ایک خواب لیے زندگی گزار
رہی تھیں: خانہ کعبہ دیکھنا۔ یہ خواتین اپنی کمزوریوں اور زندگی کے آخری سہارے کے ساتھ رہ رہی تھیں، اور ان کا کوئی
منصوبہ یا خواہش نہیں تھی۔
انہیں مفت عمرہ پیکج کی پیشکش ہوئی۔ لیکن اس خیرات کے پیچھے چھپی حقیقت بھیانک تھی۔ گاؤں کے بااثر زمیندار نے ان کے
لیے ایک ڈبہ بھیجا، جس میں جوتے کے ساتھ منشیات چھپی ہوئی تھیں۔ بوڑھی خواتین نے اس میں موت چھپی ہونے کا کوئی
اندازہ نہیں لگایا۔
پاکستانی ایئرپورٹ پر کسی نے ان کے حالات یا تحفظ کی پرواہ نہیں کی، صرف پاسپورٹ چیک کیا گیا۔ان خواتین کو اس جرم کے
لیے 25 سال قید کی سزا سنائی گئی، حالانکہ وہ شاید اتنے سال زندہ بھی نہ رہ سکیں۔”
اصل ذمہ دار وہ طاقتور نیٹ ورک ہے جو سکون سے اپنی زندگی گزار رہا ہے، اور کمزور خواتین اپنی زندگی کی قیمت ادا کر
رہی ہیں۔ یہ صرف اسمگلنگ نہیں بلکہ طبقاتی درندگی ہے، جہاں طاقتور گناہ کو خیرات بنا کر دیتا ہے اور کمزور اپنی زندگی
سے قیمت ادا کرتا ہے۔
سب سے خوفناک بات یہ نہیں کہ تین بوڑھی عورتیں جیل میں ہیں، بلکہ یہ کہ اس خبر نے ہمیں زیادہ دیر متاثر نہیں کیا۔ ہم نے
ایک لمحہ افسوس کیا، پھر آگے بڑھ گئے۔ یہ معاشرتی اور اخلاقی موت کی علامت ہے۔
یہ خواتین شاید کبھی واپس نہ آئیں، لیکن ہمارا ضمیر ان کے ساتھ دفن ہو چکا ہے۔
