اسکینڈے نیوین نیوز اردو

سیالکوٹ میں ماں کا انصاف بیٹے کے قاتل کا انجام
سیالکوٹ میں ماں کا انصاف بیٹے کے قاتل کا انجام

شمائلہ اسلم

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!


ایس این این نیوز اردو


بیورو چیف پاکستان

سیالکوٹ کے نواحی علاقے میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایک ماں کے غم، صبر اور ٹوٹے ہوئے انصاف کی ایسی تصویر ہے جس نے

پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ 22 سالہ نوجوان تسلیم کو محض رنجش کی بنا پر نعمان نامی شخص نے فائرنگ کرکے قتل کر

دیا۔ تسلیم پہلے ہی اپنے باپ کے سائے سے محروم تھا اور اس کی بیوہ ماں پروین بی بی نے محنت مزدوری کرکے اسے جوان کیا

تھا۔ وہی بیٹا جسے اس نے اپنے بڑھاپے کا سہارا سمجھا تھا، سفاکی سے چھین لیا گیا۔

باپ کی وفات کے بعد بیٹے کا قتل پروین بی بی کے لیے دوسرا قیامت خیز صدمہ تھا۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک بیٹے کے خون

کا حساب نہ ملے گا، وہ ننگے پاؤں رہے گی۔ مقدمہ شروع ہوا، پولیس نے ملزم نعمان کو گرفتار کیا، اور سات سال تک عدالتوں

میں پیشیاں چلتی رہیں۔

بالآخر سیشن کورٹ نے گواہوں اور شواہد کی بنیاد پر نعمان کو سزائے موت سنا دی۔ ماں کے دل کو کچھ قرار آیا، مگر یہ سکون

زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی، اور عدالت نے یہ کہہ کر اسے بری کردیا کہ پیش کیے گئے

ثبوت ناکافی ہیں اور قانون کو مزید “ٹھوس” شواہد درکار ہیں۔

مجرم جیل سے رہا ہوتے ہی بیرون ملک چلا گیا۔ پروین بی بی ننگے پاؤں سیالکوٹ کی گلیوں میں اسے ڈھونڈتی رہی۔ سال گزر گئے

مگر ماں کا دکھ اور جدوجہد کم نہ ہوئی۔

پھر ایک دن قسمت نے قاتل کو دوبارہ سیالکوٹ لا کھڑا کیا۔


پروین بی بی نے اپنے بیٹے کے خون کا حساب خود لے لیا


قاتل نعمان کو اس کے گھر کے دروازے پر ہی قتل کر دیا۔

اس نے اپنے پاؤں میں جوتے پہنے… اور سیدھی تھانے جا کر گرفتاری دے دی۔

پروین بی بی کا یہ اقدام قانون کے مطابق غلط تھا، مگر سوال یہ ہے کہ جب انصاف ملنے کی امید ہی ٹوٹ جائے تو ایک ماں کے پاس کیا رہ جاتا ہے؟

قانون ثبوت مانگتا ہے، مگر سچ پورا علاقہ جانتا تھا


رنجش میں قتل ہوا، بیوہ کا دوسرا سہارا چھینا گیا، اور شواہد ہونے کے باوجود قاتل آزاد ہو گیا۔

آج عدالت میں نعمان نہیں، پروین بی بی کھڑی ہیں۔


ثبوت بھی ان کے خلاف ہیں اور قانون بھی۔


مگر عوام کی ہمدردیاں صرف ایک ماں کے ساتھ ہیں، جو انصاف کے دروازے بار بار کھٹکھٹاتی رہی اور آخرکار خود فیصلہ لینے پر مجبور ہوئی۔

جب ماہیں بیٹوں کے قاتلوں کے فیصلے خود کرنے لگ جائیں


تو انصاف کے ایوانوں پر لگے ترازو صرف کاغذی رہنمائی کے قابل رہ جاتے ہیں، انصاف دینے کے نہیں۔