خالد چوغطہ
ایس این این نیوز اردو
سید والا (نندانہ صاحب) — تھانہ سید والا میں نویں جماعت کے دو طالب علموں سے ملاقات کے دوران رشوت نہ دینے پر شہری
اور محرر کے درمیان جھگڑا اور ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے اس واقعے کے بعد 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، مقامی پولیس نے ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے کے الزام میں نویں جماعت کے دو طالب علم قیس ولد
عبدالرزاق اور نظام الدین ولد فقیر کو گرفتار کر کے تھانہ سید والا کی حوالات میں بند کر دیا تھا۔
اطلاع ملنے پر قیس کا والد عبدالرزاق اپنے ایک عزیز کے ہمراہ تھانے پہنچا اور ڈیوٹی پر موجود محرر تھانہ عبدالرحمان سے ملاقات
کی خواہش ظاہر کی۔ ذرائع کے مطابق، محرر نے ملاقات کے عوض مبینہ طور پر بھاری رشوت طلب کی۔ والد نے رشوت دیے بغیر
ملاقات کی درخواست کی، جس پر دونوں میں شدید جھگڑا اور ہاتھا پائی ہو گئی۔
اس دوران دیگر پولیس عملہ نے دونوں کے درمیان جھگڑا ختم کروایا اور والدین واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔ تاہم، بعد ازاں
پولیس نے تھانے میں داخل ہو کر ڈیوٹی پر موجود محرر پر حملہ کرنے، زود کوب کرنے اور جیب سے ضروری کاغذات و نقدی چھیننے
کے الزام میں 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرنے کے بعد مزید تحقیقات جاری ہیں اور گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی
جائے گی۔ تھانہ سید والا کے اس واقعے نے مقامی شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے
مزید محتاط رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
واقعے کے حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس افسر ننکانہ صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن رات گئے تک رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
نتیجہ:
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تھانہ سطح پر شفافیت اور عوامی اعتماد قائم رکھنا کس حد تک ضروری ہے۔ شہریوں اور پولیس کے درمیان اعتماد قائم رکھنا قانون کی حکمرانی اور معاشرتی امن کے لیے ناگزیر ہے۔
