تحریر: ابو محمد
کیا کسی قوم میں کوئی ادارہ ایسا ہو سکتا ہے جو اپنے وجود کو تو ریاست سے ماخوذ بتائے، مگر ریاستی نظم سے بالاتر سمجھا جائے؟ کیا کوئی ایسی
قوت ہو سکتی ہے جو اپنے عمل سے سیاست میں شریک ہو، لیکن جواب دہی سے مبرا رہے؟ یہ سوال محض جذباتی یا انقلابی نہیں، بلکہ غایتاً منطقی
سوال ہے — کیونکہ ہر طاقت کا غائی مقصد ریاست کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ ریاست پر حکمرانی۔
تاریخِ پاکستان کے ٹھوس اعداد خود بولتے ہیں کہ 1947 سے آج تک تقریباً 33 سال پاکستان پر براہِ راست وردی پوش حکمرانوں نے حکومت کی۔ یہ
ادوار — ایوب، یحییٰ، ضیاء اور مشرف — صرف اقتدار کے تسلسل نہیں تھے، بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کی فکری تشکیل کے ادوار تھے۔ بقیہ 42
برس میں بھی وہی عسکری ڈھانچہ پسِ پردہ طاقت کے طور پر موجود رہا، خواہ وہ “قومی سلامتی کمیٹی” کی صورت ہو، یا “حساس اداروں” کے پالیسی کردار کی صورت۔
سوال یہ ہے کہ جب ایک ادارہ براہِ راست اور بالواسطہ، دونوں انداز میں، ریاستی پالیسیوں پر اثر انداز رہا ہو تو کیا اس کے نتائج کا جائزہ لینا “غداری”
یا “ادارہ شکنی” کہلائے گا؟ اگر سیاست دان اپنی ناکامیوں پر موردِ الزام ٹھہر سکتے ہیں، تو عسکری منصوبہ ساز کیوں نہیں؟
ہم نے تاریخ کے ہر موڑ پر یہ عجب منطق دیکھی ہے کہ: جب بھی کوئی کامیابی ہو — چاہے وہ جوہری صلاحیت ہو، دفاعی خودکفالت ہو، یا دہشت
گردی کے خلاف کامیاب آپریشن — اس کا سہرا فوراً “ادارے” کے سر باندھ دیا جاتا ہے۔ لیکن جب معیشت تباہ ہو، جمہوریت غیر مستحکم ہو، یا معاشرہ مذہبی و لسانی تقسیم کا شکار ہو، تو یہی قوت خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ادارہ پورے ملک کے سیاسی توازن، خارجہ پالیسی، مذہبی بیانیے، اور میڈیا ڈھانچے پر اثر انداز بھی ہو اور پھر اپنے اثرات
سے بری الذمہ بھی رہے؟ کیا اخلاقی انصاف یہ اجازت دیتا ہے کہ جو قوت اقتدار کی شریکِ کلید ہے، وہ جواب دہی کی شریکِ سزا نہ بنے؟
سیاست دان عوامی نمائندے ہیں، اور عوامی نمائندہ چونکہ عوام سے ووٹ لیتا ہے، لہٰذا اس کی ناکامی براہِ راست عوامی ردعمل کا سبب بنتی ہے۔ عوام
اسے گالیاں بھی دیتے ہیں، ووٹ بھی نہیں دیتے، میڈیا اسے لتاڑتا ہے — کیونکہ وہ قابلِ احتساب ہے۔ لیکن ایک ادارہ جو خود کو ریاست کا ضامن
سمجھتا ہے، اگر ریاست کے سیاسی عمل میں مداخلت کرے، تو اسے کون جواب دہ ٹھہرائے گا؟ عوام کے پاس بیلٹ باکس تو ہے، مگر اس کے ذریعے
کسی “غیر منتخب طاقت” کو کیسے مسترد کیا جائے؟
یہ تضاد ہی اصل مسئلہ ہے: احتساب صرف وہاں ممکن ہوتا ہے جہاں اختیار عوام سے ماخوذ ہو۔ جہاں اختیار وردی سے ماخوذ ہو، وہاں تنقید جرم بن جاتی ہے۔
اگر ٹیلولوجی کی زبان میں بات کی جائے تو سوال یوں بنتا ہے: “کیا ریاستی طاقت کا غائی مقصد اپنے وجود کا تحفظ ہے یا قوم کی فلاح؟”
اگر مقصد “تحفظِ ذات” بن جائے تو ادارہ اپنے وجود کو قوم پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر شعبے — چاہے مذہبی ہو یا معاشی، تعلیمی ہو یا
ثقافتی — میں خوف اور اطاعت کا عنصر سرایت کر جاتا ہے۔ ایسا معاشرہ اپنی روح کھو دیتا ہے، اور سوچنے والے دم توڑ دیتے ہیں۔
اگر آج پاکستان میں فکری جمود، سیاست میں مصلحت، مذہب میں مفاد، اور میڈیا میں خوف عام ہے — تو کیا یہ سب صرف سیاست دانوں کی بدعملی کا
نتیجہ ہے؟ یا اس کے پسِ پردہ وہ منظم بیانیہ ہے جو نصف صدی سے ریاستی مفاد کے نام پر قوم پر مسلط کیا گیا ہے؟
ناقابلِ تنقید ہونا ہمیشہ استبداد کی علامت رہا ہے۔ یونان سے روم تک، اور عباسی خلافت سے سلطنت عثمانیہ تک — ہر جگہ جب کوئی طبقہ “مقدس” قرار دے دیا گیا، وہاں تنقید جرم ٹھہری، اور زوال نے جنم لیا۔
ریاست کا وجود کسی مقدس طبقے سے نہیں بلکہ مقدس نظریہ و نظام میں مربوط جغرافیہ و عوام سے قائم رہتا ہے۔ جب عدل کمزور ہو جائے، اور مقدس
طبقات طاقتور ہو جائیں، تو ریاست اپنے منطقی مقصد سے منحرف ہو جاتی ہے۔
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ سیاست دان برے ہیں یا فوج اچھی — بلکہ سوال یہ ہے کہ طاقت کس کے لیے ہے؟ قوم کے لیے، یا ادارے کے لیے؟ اگر طاقت
کا مقصد قوم کی فلاح ہے تو پھر ہر طاقت ور قوت کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا ہو گا۔ اور اگر طاقت صرف خود کے تحفظ کے لیے ہے، تو یہ
ریاست نہیں، اقتدار کی نجکاری ہے۔
قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے اندر غیر معروف مقدسات پر سوال اٹھانے کی جرات رکھتی ہیں — غیر معروف مقدسات سے مراد وہ
ادارے، بیانیے اور شخصیات جنہیں ماورائے نظریہ و نظام “ناقابلِ تنقید” بنا دیا گیا ہے۔
پاکستان کو اب فیصلہ کرنا ہو گا: کیا ہم ایک ایسی ریاست رہیں گے جہاں وردی تنقید سے بالاتر ہو، یا ایک ایسی اسلامی جمہوریت جہاں ہر طاقت کو
سوال و محاسبہ کا سامنا ہو؟
کیونکہ جب تک سوال دبایا جائے گا، سچ دفن رہے گا — اور جب سچ بولنے کی اجازت مل جائے گی، تب ہی پاکستان واقعی آزاد ہو گا۔