شمائلہ اسلم
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
بیورو چیف پاکستان
ایس این این اردو
اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں بڑا انکشاف سامنے آیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے اربوں روپے سرکاری افسران اور بیوروکریٹس کو منتقل کیے گئے۔ یہ رقوم اصل مستحقین کو ملنے کے بجائے سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے اکاؤنٹس میں جاتی رہیں۔
اجلاس کنوینئر معین عامر پیرزادہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کے بینیفشریز کی فہرست میں درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں اعلیٰ سرکاری افسران، ان کی بیویاں اور حتیٰ کہ پنشنرز تک شامل ہیں۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے ان افسران پر کرمنل چارجز عائد کیے جائیں اور ان سے رقوم کی وصولی ہر حال میں یقینی بنائی جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صرف گریڈ 20 کے 85 افسران، گریڈ 19 کے 630 افسران اور متعدد گریڈ 22 کے افسران بھی ناجائز ok طور پر اس پروگرام کے مستفیدین میں شامل تھے۔
جب کمیٹی نے استفسار کیا کہ اب تک ان سے ریکوری کیوں نہیں کی گئی تو متعلقہ سیکرٹری نے اعتراف کیا کہ اس کے لیے کوئی واضح میکنزم موجود نہیں ہے۔ تاہم کمیٹی کو بتایا گیا کہ زیادہ تر افسران صوبائی سطح پر تعینات تھے اور اس وقت ایف آئی اے ان کے خلاف تحقیقات اور رقوم کی واپسی کے عمل میں مصروف ہے۔
