اسکینڈے نیوین نیوز اردو

زیتون کا درخت: قدرتی شفا کا خزانہ

شمائلہ اسلم

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!


اسکینڈے نیوین نیوز ایجنسی

بیورو چیف پاکستان

Isدرخت

زیتون کا درخت انسانی تاریخ کا قدیم ترین اور بابرکت درختوں میں سے ایک

ہے۔ یہ نہ صرف امن، حکمت، دوستی، طویل عمر، ہم آہنگی اور پائیداری کی

علامت ہے بلکہ اس کا طبی، معاشی اور ماحولیاتی کردار بھی غیرمعمولی ہے۔

تاریخی اور جغرافیائی اہمیت

زیتون کا سدابہار درخت ہزاروں سال زندہ رہ سکتا ہے اور مسلسل پھل دیتا ہے۔ اس کی اونچائی 8 سے 15 میٹر (26 سے 49 فٹ) تک پہنچ سکتی ہے۔ زیتون بنیادی طور پر بحیرہ روم کے خطے، جنوبی یورپ، شمالی اور مغربی افریقہ، اور ایران و بحیرہ قزوین کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ آج یہ درخت دنیا کے 56 ممالک میں کاشت کیا جا رہا ہے۔

صحت کے لیے زیتون اور اس کا تیل

زیتون کا تیل صحت کے لیے ایک قدرتی خزانہ ہے۔ اس میں فیٹی ایسڈز،

وٹامنز، اینٹی آکسیڈنٹس اور پولی فینولز کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو اسے

قابلِ قدر غذائی دوا بناتی ہے۔

روزانہ نہار منہ ایک چمچ زیتون کا تیل پینے کے فوائد:

خلیات کو کینسر سے تحفظ

آنتوں کی صفائی اور قبض سے نجات

بلڈ شوگر، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو کنٹرول

جسمانی ورم اور درد میں کمی

دماغ کو آکسیجن فراہمی اور ذہنی صحت میں بہتری

جلد، ناخن اور بالوں میں نکھار اور نشوونما

مذہبی اور روحانی مقام

زیتون کا ذکر قرآن مجید میں سات بار آیا ہے اور اسے “مبارک درخت” قرار

دیا گیا ہے۔ بائبل میں اسے “شجرِ حیات” کہا گیا ہے۔ احادیثِ نبوی

ﷺ میں بھی زیتون کے تیل کے طبی استعمال کی ترغیب دی گئی ہے۔

عالمی پیداوار اور اسپین کی برتری

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) کے مطابق:

2018 میں زیتون کی کاشت کا رقبہ: 1 کروڑ 5 لاکھ ہیکٹر

سب سے بڑی پیداوار: اسپین

عالمی پیداوار کا 56٪ تیل، 47٪ پھل

سب سے زیادہ استعمال بھی اسپین میں (5.15 لاکھ ٹن)

زیتون کا پھل 90٪ تیل کشید کرنے میں استعمال ہوتا ہے جبکہ باقی 10٪ دیگر غذائی مقاصد کے لیے۔

پاکستان میں زیتون کی کاشت

پاکستان میں زیتون کو پہلی بار 1986 میں پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل

(PARC) نے اطالوی حکومت کے تعاون سے متعارف کرایا۔ ایک

سروے کے مطابق 8 کروڑ جنگلی زیتون کے پودے ملک میں پائے گئے۔

2000 میں زیتون کی تجارتی کاشت کا آغاز ہوا، اور 2012 سے 2015 تک

2800 ایکڑ پر 2.8 لاکھ سے زائد پودے مفت تقسیم کیے گئے۔ اس وقت

ملک میں 25 ہزار ایکڑ پر زیتون کی کامیاب کاشت ہو چکی ہے اور مزید 5 ہزار

ایکڑ پر کام جاری ہے۔

حکومتی اقدامات:

پوٹھوہار کو “زیتون کی وادی” قرار دیا گیا

چکوال اور ترناب پشاور کو سینٹر آف ایکسیلنس بنایا گیا

گوگل ارتھ پر GIS سسٹم کے ذریعے زیتون کے باغات کی مانیٹرنگ

زیتون کی کاشت کے لیے زمین اور حالات

زیتون کا درخت مختلف اقسام کی زمینوں (ریتلی، پتھریلی، صحرائی) میں اگ

سکتا ہے، صرف کلر والی زمین یا کھڑے پانی والی جگہیں موزوں نہیں ہیں۔

چولستان جیسے ریگستانی علاقوں میں بھی زیتون کی کامیاب کاشت ممکن ہے۔

ماحولیاتی اور طبعی فوائد

زیتون کا درخت:

زمین کو کٹاؤ سے بچاتا ہے

صحرا کی پیش قدمی کو روکتا ہے

زیر زمین پانی کھینچنے کی صلاحیت رکھتا ہے

ہزاروں سال تک پھل دیتا ہے

کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے ماحولیاتی تحفظ فراہم کرتا ہے

اختتامیہ

زیتون کا درخت صرف ایک زرعی یا غذائی وسیلہ نہیں بلکہ تاریخ، مذہب،

صحت اور معیشت کا ایک جیتا جاگتا استعارہ ہے۔ پاکستان کو اپنی بڑھتی

ہوئی خوردنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیتون کی کاشت کو

قومی ترجیح بنانا ہوگا۔