اسکینڈے نیوین نیوز اردو

فیصل آباد میں احمدی عبادت گاہوں پر حملہ، 25 گرفتار
فیصل آباد میں احمدی عبادت گاہوں پر حملہ، 25 گرفتار

شمائلہ اسلم

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!


بیورو چیف پاکستان


ایس این این اردو

دو ایف آئی آر درج، 47 افراد نامزد، 300 نامعلوم شامل


عبادت گاہوں کے مینار منہدم، ایک کو آگ لگائی گئی، قریبی گھروں پر بھی حملے

لاہور: پولیس نے یوم آزادی کی رات فیصل آباد میں احمدی برادری کی دو عبادت گاہوں پر حملوں کے الزام میں 300 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔ دونوں ایف آئی آرز میں 47 مشتبہ افراد کے نام شامل ہیں جبکہ 300 کو نامعلوم قرار دیا گیا ہے۔

مقدمات اینٹی ٹیررزم ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 295، 425، 446، 380، 148 اور 149 کے تحت درج کیے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق، تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے مقامی رہنما حافظ رفاقت نے ڈنڈوں اور اینٹوں سے مسلح ہجوم کی قیادت کی۔ ہجوم نے احمدی عبادت گاہوں پر دھاوا بولا، ایک کی میناریاں گرا دیں اور دوسری کو آگ لگا دی۔ برادری کے افراد کی مزاحمت پر انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی ہو گئے۔

حملہ آوروں نے قریبی گھروں پر بھی پتھراؤ کیا جس سے کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور رہائشی خوفزدہ ہو کر گھروں میں محصور ہو گئے۔

احمدیہ برادری کے ترجمان عامر محمود نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا:
“ہم یوم آزادی منانے میں مصروف تھے کہ اچانک حملہ آوروں نے ہم پر دھاوا بول دیا۔ یہ وہ آزادی نہیں جس کا خواب پاکستان کے بانیوں نے دیکھا تھا۔ جب تک مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، عدم برداشت بڑھتی رہے گی۔”

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حملوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور احمدی برادری کو مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

فیصل آباد سٹی پولیس آفیسر صاحبزادہ بلال عمر اس واقعے پر تبصرہ کے لیے دستیاب نہیں تھے۔