شمائلہ اسلم
بیورو چیف پاکستان
ایس این این نیوز اردو
اسلام آباد: جنوبی ایشیائی ملک کمبوڈیا میں پاکستانی شہریوں پر مبینہ طور پر سنگین مظالم اور انسانی اعضا کی فروخت کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق نے انکشاف کیا کہ صرف ایک سال کے دوران 18 ہزار پاکستانی کمبوڈیا گئے،
جس پر وزارت داخلہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
کمیٹی کے چیئرمین آغا رفیع اللہ نے سوال اٹھایا کہ ایف آئی اے کس طرح ان افراد کی سہولت کاری کر رہا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی بیورو آف
امیگریشن کی سیٹ خالی کیوں ہے اور کیا تمام اختیارات قائم مقام افسر کے پاس ہیں؟
اراکین نے بتایا کہ تھائی لینڈ اور ویتنام کے قریب واقع کمبوڈیا میں پاکستانیوں کو یرغمال بنایا جاتا ہے، کرنٹ لگائے جاتے ہیں، بھاری بھتہ وصول کیا
جاتا ہے، یہاں تک کہ جسمانی اعضا بھی نکال لیے جاتے ہیں۔
چیئرمین نے کہا کہ “ہم نے متعدد شکایات پر ایکشن لیا اور لوگوں کو ریسکیو کروایا، لیکن افسوس ہے کہ ایک سال کے اندر ہی 18 ہزار مزید افراد
کمبوڈیا پہنچ گئے، حالانکہ وہاں نہ کوئی بڑی سیاحت ہے اور نہ ہی کاروباری مواقع۔”
کمیٹی رکن مہرین بھٹو نے کہا کہ ملک کے پڑھے لکھے پروفیشنلز نے بھی بیرون ملک جانا اپنی اولین ترجیح بنا لیا ہے۔ وزارت اوورسیز کے حکام کے
مطابق 2024-25 کے دوران پاکستانیوں نے بیرون ملک سے 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھی وطن بھیجی ہیں۔
