اسکینڈے نیوین نیوز اردو

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سمیت دو ججز کے خلاف شکایت
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سمیت دو ججز کے خلاف شکایت

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

رفعت کوثر


ایس این این اردو

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس ابہر گل خان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک باقاعدہ

شکایت دائر کر دی گئی ہے، جس میں دونوں ججز کی تعلیمی قابلیت، اہلیت اور انتظامی کردار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس ابہر گل خان موجودہ عہدوں پر فائز رہنے کے اہل

نہیں، لہٰذا سپریم جوڈیشل کونسل دونوں ججز کی تعلیمی اسناد اور مجموعی اہلیت کا تفصیلی جائزہ لے۔

شکایت کنندگان کے مطابق جسٹس ابہر گل خان کی تعلیمی ڈگری مشکوک ہے، اس لیے ان کا مکمل تعلیمی ریکارڈ طلب کر

کے جانچ پڑتال کی جائے، خصوصاً بطور مستقل جج کنفرم کیے جانے سے قبل ان کی ڈگریوں کی تصدیق ضروری قرار دی گئی ہے۔

درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ لاہور میں خواتین ڈسٹرکٹ ججز کو دانستہ طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور انہیں

دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ان کی ذاتی اور خاندانی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

اسی تناظر میں چیف جسٹس عالیہ نیلم پر ضلعی عدالتوں کے معاملات میں مداخلت کا الزام بھی لگایا گیا ہے اور مطالبہ کیا

گیا ہے کہ ان کے کردار کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔

شکایت متاثرہ خواتین ججز اور دیگر جوڈیشل افسران کے والدین کی جانب سے دائر کی گئی ہے، تاہم تحفظ کے خدشات کے باعث

شکایت کنندگان نے فی الحال اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

شکایت میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جسٹس ابہر گل خان کے بطور مستقل جج کنفرم ہونے سے قبل ان

کی تعلیمی اسناد کی مکمل جانچ کی جائے، اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو چیف جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس ابہر گل

خان کو عہدوں سے ہٹایا جائے تاکہ عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔

عدلیہ اور قانونی امور سے متعلق مزید خبریں پڑھنے کے لیے ہمارا عدالتی امور سیکشن ملاحظہ کریں۔