شمائلہ اسلم
ایس این این نیوز اردو
بیورو چیف پاکستان
تاریخی پیش رفت!
تین دہائیوں بعد بسنت کی خوشیوں کی بحالی کا سہرا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے سر ہے، اور اس بات کا اعلان وزیر
اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بسنت اب خطرہ نہیں بلکہ ایک مکمل طور پر محفوظ
ثقافتی تہوار بن چکا ہے، جسے جدید اصولوں، سخت مانیٹرنگ اور قانون کے مطابق منایا جائے گا۔
عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ خونی اور کیمیکل لگی ڈور کا دھندہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھات یا
کیمیکل کوٹڈ ڈور کےاس کا استعمال یا خرید و فروخت کرنے والے کو 3 سے 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے بچوں کی جانب سے پتنگ بازی کے قوانین بھی سخت کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچے
پتنگ نہیں اڑا سکیں گے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں:
پہلی بار 50 ہزار روپے جرمانہ
دوسری بار 1 لاکھ روپے جرمانہ
ڈور بنانے اور فروخت کرنے والوں کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی ہے، اور اب ہر ڈور کے رول پر QR کوڈ کے ذریعے مکمل شناخت ہوگی۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ پتنگ بازی کے دوران
کسی شہری کی جان کو خطرہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹریفک قوانین کا مقصد سزا نہیں بلکہ شہریوں کی جان اور خاندانوں
کی حفاظت ہے، تاہم قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے بھی ہوں گے اور بار بار خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی نیلام بھی ہوسکتی ہے۔
وزیر اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے کم عمر بچوں کو ہتھکڑی لگانے پر مکمل
پابندی لگا دی ہے۔ اب نابالغ بچوں کا صرف چالان ہوگا، گرفتاریاں نہیں ہوں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں کم عمر بائیک سواروں کے لیے قانونی تحفظ فراہم کرنے کی قانون سازی بھی کی جارہی ہے۔
آخر میں انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ قوانین کی پابندی کریں، احتیاط کریں اور اپنی اور دوسروں کی زندگیاں محفوظ بنائیں۔
پنجاب حکومت کی تازہ ترین خبریں
