اسکینڈے نیوین نیوز اردو

مولانا فضل الرحمن کی ائمہ کو دس ہزار روپے پر شدید تنقید

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

اسامہ زاہد


ایس این این اردو

اسلام آباد/لاہور: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا

فضل الرحمن نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے مساجد کے

ائمہ کرام کو دس ہزار روپے دینے کی تجویز کو سخت تنقید کا

نشانہ بنایا ہے۔ اپنے ایک خطاب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا

کہ ائمہ کو چندہ یا سیاسی مفادات کے عوض خریدا نہیں جا

سکتا اور اس قسم کی پیشکشیں مذہبی قیادت کی حرمت کو

مجروح کرتی ہیں۔

مولانا نے کہا، “آج ہمارے مساجد کے ائمہ کو دس ہزار روپے سے

خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ رقم قبول نہیں۔ میں

پوری مکاتب فکر اور مدارس کی نمائندگی کرتے ہوئے اس اقدام

کی سخت مزاحمت کروں گا۔” ان کا کہنا تھا کہ مذہبی قیادت

کو پیسوں یا سیاسی دباؤ کے ذریعے متأثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

سیاسی حلقوں میں اس بیان کے بعد بحث شروع ہو گئی ہے؛

بعض ناقدین نے وزیراعلیٰ کے اقدام کو معمولی خیرات قرار دیا

تو کچھ نے اسے مذہبی قیادت کے وقار کو کم کرنے کی کوشش

کہا۔ مولانا کے حامیوں نے بھی اس بیان کی تائید کی اور کہا کہ

مساجد کی آزادی اور ائمہ کی غیرجانبداری بنیادی حقوق ہیں۔