حماد کاہلوں
اسلام آباد بیورو چیف
ایس این این نیوز
سولر انرجی کی نئی پالیسی کا مطلب واضح اور سادہ ہے: حکومت آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کی بجلی کو تحفظ
دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن عوام نے تقریباً دس ہزار میگا واٹ سولر بجلی لگا کر آئی پی پیز کی مہنگی بجلی کو غیر
ضروری بنا دیا ہے۔
گزشتہ 30 سال کی حکومتیں عوام کا خون چوس کر آئی پی پیز کو فائدہ پہنچاتی رہیں، لیکن اب عوام نے اس کا حل نیٹ
میٹرنگ کے ذریعے نکالا ہے۔ سولر بجلی پیدا کر کے عوام نے مہنگی بجلی کے خلاف اپنی بغاوت کا آغاز کر دیا۔
اب آئی پی پیز حکومت کے پاس احتجاج کے لیے پہنچے تو حکومت نے ان کی داد رسی کی اور یقین دلایا کہ نئی پالیسی کے ذریعے
دوبارہ عوام کو مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور کیا جائے گا۔ مگر موجودہ پالیسی بھی آئی پی پیز کو مکمل تحفظ نہیں دے سکتی۔
آئندہ عوام آف گرڈ سولوشنز کی طرف بڑھیں گے، جہاں بیٹری سٹوریج کے ذریعے وہ خود بجلی پیدا اور استعمال کریں گے، اور
حکومت یا آئی پی پیز کی بجلی پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ سولر ٹیکنالوجی اور بیٹریز میں ترقی سے قیمتیں کم ہوں گی اور
وقت کے ساتھ ہر گھر اپنے لیے خود بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
صرف وہ افراد متاثر ہوں گے جو غریب ہیں اور جن کا ماہانہ بجلی کا بل چند ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہے، کیونکہ وہ سولر یا
بیٹری خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ تاہم، اگر پاکستان میں بھارت کی طرح منتخب جمہوری حکومت آ جائے، تو عوام کو بلا
سود قرض فراہم کر کے سولر بجلی کی سہولت دی جا سکتی ہے۔
بھارت نے اپنے تمام شہریوں کو سولر بجلی پر منتقل کرنے کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ وہاں سالانہ تقریباً ایک لاکھ بتیس ہزار
میگا واٹ بجلی گھروں کی چھتوں سے پیدا کی جاتی ہے، جو دنیا کی تیسری بڑی سولر بجلی پیداوار ہے۔
