شمائلہ اسلم
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
بیورو چیف پاکستان
ایس این این اردو
پشاور: خیبرپختونخوا کے جنگلات اجاڑنے کے بعد لینڈ اور لکڑی مافیا نے اب ہری پور کے مکنیال جنگل کا رخ کر لیا ہے، جو اسلام آباد کے قریب واقع اور مارگلہ ہلز کے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق بااثر گروہ اس علاقے کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولنے میں سرگرم ہیں، جہاں درختوں کی بے دریغ کٹائی، کان کنی اور کمرشل چرائی جیسے عوامل خطے کی سبز پٹی کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔
اگرچہ سپریم کورٹ پہلے ہی مارگلہ ہلز میں کمرشل سرگرمیوں پر پابندی لگا چکی ہے، لیکن اس کے باوجود مکنیال جنگل میں ہوٹلوں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور کمرشل عمارتوں کے منصوبے زیرِ غور ہیں۔
محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف خیبرپختونخوا نے تجویز دی ہے کہ مکنیال اور خانپور سب ڈویژنز کی ہزاروں ایکڑ زمین کو “محفوظ گزرا جنگلات” قرار دیا جائے۔ یہ تجویز ایک جامع سروے کے بعد دی گئی، جس میں 78 دیہات (66 ہری پور اور 12 ایبٹ آباد میں) کی 7060 اراضیوں کی نشاندہی کی گئی جن پر جنگلات موجود ہیں۔
سابق بیوروکریٹ شکیل درانی نے بھی مکنیال میں ہوٹل، ہاؤسنگ سوسائٹی اور پلے لینڈ بنانے کی شدید مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی سائیڈ سے کمرشل تجاوزات ختم ہو چکی ہیں، مگر خیبرپختونخوا کی طرف فارم ہاؤسز کی تعمیرات جاری ہیں۔
