شمائلہ اسلم
ایس این این نیوز اردو
بیورو چیف پاکستان
لاہور شاہدرہ ٹاؤن میں 15 سالہ بچی کے بال زبردستی مونڈھ دیے گئے وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر حنا پرویز بٹ کا متاثرہ خاندان سے اظہارِ یکجہتی، پولیس کی 4 ملزمان کی گرفتاری
لاہور: شاہدرہ ٹاؤن میں پیش آنے والے 15 سالہ بقیہ بتول کے افسوسناک واقعے نے شہریوں کو شدید رنجیدہ کر دیا، جہاں بچی کو
مبینہ طور پر زبردستی قید میں رکھ کر اس کے سر کے بال مونڈھ دیے گئے اور اسے دباؤ میں لانے کے لیے نازیبا ویڈیو بھی بنائی گئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واقعہ سامنے آنے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا
پرویز بٹ کو متاثرہ خاندان سے ملاقات کی ہدایت کی۔ حنا پرویز بٹ متاثرہ بچی کے گھر پہنچیں، اہلِ خانہ سے تفصیلات حاصل کیں، اور حکومتی سطح پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بقیہ بتول شاہدرہ ٹاؤن سے بابا فرید کالونی اپنے بھائی کے گھر گئی تھی، جہاں اس کے بھائی قاسم
علی، بھابھی معصومہ اور رشتہ دار سمیر سمیت دیگر افراد نے اسے محبوس رکھا اور اس کے بال مونڈھ کر ویڈیو ریکارڈ کی۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تھانہ کوٹ لکھپت میں 337-V اور 342 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ چار ملزمان
کو گرفتار کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
حنا پرویز بٹ نے متاثرہ بچی کو قانونی، نفسیاتی اور تحفظ کے تمام ممکنہ اقدامات فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ:
“15 سالہ بچی کے ساتھ ایسا ناروا سلوک قابلِ معافی نہیں۔ خواتین اور بچیوں پر ظلم کرنے والوں کو کسی صورت رعایت
نہیں دی جائے گی۔ تحقیقات میرٹ پر ہوں گی اور تمام ذمہ دار قانون کے کٹہرے میں کھڑے کیے جائیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ کیس کی پیش رفت کو خود مانیٹر کریں گی تاکہ انصاف میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی واضح ہدایات ہیں کہ:
“خواتین کے لیے محفوظ پنجاب ہماری ترجیح ہے، اور اس مشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔”
