تحریر: خولہ رضویہ
دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب عالمی طاقتیں کسی ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے گریز کرتی ہیں تو ظالم مزید بے خوف
ہو جاتا ہے، اور مظلوموں کی آہ بھی سنائی نہیں دیتی۔ آج یہی صورتحال فلسطین میں دکھائی دیتی ہے، جہاں نہ صرف
انسانی حقوق روندے جا رہے ہیں بلکہ بربریت کو قانونی جواز دے کر دنیا کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔
Table of Contents
Toggleفلسطین: ظلم کی کھلی کتاب، دنیا خاموش
اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو قانونی پردہ فراہم کرنا اور پھر اس پر جشن منانا عالمی اخلاقی
دیوالیہ پن کا بدترین ثبوت ہے۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی ہے کہ جب عالمی ادارے اور انسانی حقوق کے ٹھیکیدار خاموش
رہیں تو طاقت کے نشے میں چور ریاستیں ہر حد پار کر جاتی ہیں۔
فلسطینی عوام پر بڑھتے ہوئے حملے، معصوم بچوں اور شہریوں کی ہلاکتیں، انسانی امداد میں رکاوٹ — یہ سب کچھ عالمی ضمیر کے منہ پر طمانچہ ہے۔
پاکستان: جہاں حمایتِ مظلوم جرم اور ظالم کے خلاف احتجاج معاف نہیں
اس سب کے دوران پاکستان کا داخلی منظر نامہ ایک دردناک تضاد پیش کرتا ہے۔ فلسطینی عوام کی حمایت میں بلند ہونے
والی سب سے مضبوط آواز، تحریک لبیک پاکستان (TLP)، پر پابندیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کی وہ جماعت
جو عالمی سطح پر ہونے والے مظالم کے خلاف سب سے زیادہ فعال رہی، اسی کے کارکنان پر ریاستی آہنی ہاتھ مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔
احتجاج، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں بنیادی شہری حق ہوتا ہے، یہاں جرم بنا دیا گیا ہے۔ امن و امان کے نام پر وہ آوازیں
دبا دی جاتی ہیں جو انسانیت کے لیے کھڑی ہوتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں “احتجاج” جرم اور “خاموشی” واحد قابل قبول رویہ قرار پا گیا ہو۔
عالمی منافقت ایک سوالیہ نشان
سوال یہ ہے کہ کیا ظلم کے خلاف آواز اٹھانا جرم ہے؟
کیا فلسطینیوں کی حمایت کرنا قابل گرفتاری عمل ہونا چاہیے؟
کیا عالمی سطح پر انسانی حقوق صرف طاقتور ریاستوں کے لیے محفوظ ہیں جبکہ کمزور اقوام کے لیے قوانین بدل جاتے ہیں؟
فلسطین کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو دبانا اور ظالم کو کھلی چھوٹ دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انصاف اور انسانی
حقوق کے اصول اب صرف کتابوں تک محدود ہو چکے ہیں۔
نتیجہ: دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا
مظلوم کی آواز دبانے سے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔ جب قومیں ظلم کے خلاف کھڑی ہونے والوں کو قید کرتی ہیں اور
طاقتوروں کے جرائم کو نظر انداز کرتی ہیں تو معاشرے توازن کھو دیتے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری بھی اور پاکستان کے ادارے بھی یہ سمجھیں کہ:
ظلم کے خلاف کھڑا ہونا جرم نہیں — خاموش رہنا سب سے بڑا جرم ہے۔
