اسکینڈے نیوین نیوز اردو

شاہکوٹ کے پڑھے لکھے نوجوان، بے روزگاری کا المیہ
شاہکوٹ-کے-پڑھے-لکھے-نوجوان،-بے-روزگاری-کا-المیہ

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

شاہین اقبال طاہر


تحصیل رپورٹر شاہ کوٹ،

ایس این این اردو

شاہکوٹ: شہر کے پڑھے لکھے نوجوان آج سب سے خاموش مگر سب سے گہری چیخ کر رہے ہیں۔ یہ آواز سڑکوں پر سنائی نہیں

دیتی، جلسوں میں گونجتی نہیں، مگر ہر نوجوان کے دل میں موجود ہے جس نے برسوں محنت کے بعد تعلیم حاصل کی، مگر

بدلے میں بے روزگاری پائی۔

یہ مسئلہ صرف ان پڑھ طبقے تک محدود نہیں۔ اصل المیہ وہ سینکڑوں پڑھے لکھے نوجوان ہیں جو ڈگریاں ہاتھ میں لیے

نوکری کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کوئی فیکٹری کے گیٹ پر منتظر ہے، کوئی دفتر کے چکر لگا رہا ہے، اور

کوئی سفارش نہ ہونے کی سزا بھگت رہا ہے۔ ہر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد جواب ایک ہی ملتا ہے: “ابھی کوئی جگہ نہیں”۔

ہر ڈگری کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہے: کسی باپ کی جمع پونجی، کسی ماں کی دعائیں، اور وہ راتیں جو نوجوان کتابوں کے

ساتھ جاگ کر گزارتا ہے۔ مگر جب یہی نوجوان بے روزگار رہتا ہے تو صرف جیب نہیں خالی ہوتی، خود اعتمادی بھی ٹوٹنے لگتی

ہے اور خواب آہستہ آہستہ سوال بن جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ شاہکوٹ کی سیاسی قیادت کہاں ہے؟ کیا کبھی سنجیدگی سے سوچا گیا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باعزت

روزگار کیسے دیا جائے؟ حقیقت تلخ ہے: نوجوان زیادہ تر الیکشن کے دنوں میں ہی یاد کیے جاتے ہیں۔ ووٹ ڈالنے کے بعد سب کچھ پھر خاموش ہو جاتا ہے۔

آج شاہکوٹ کا ان پڑھ طبقہ ہو یا پڑھے لکھے بے روزگار نوجوان، سب ایک ہی امید پر جی رہے ہیں: کسی مسیحا کی امید۔ کسی

ایسے شخص کی، جو وعدوں سے آگے بڑھے، تقریروں کے بجائے عملی اقدامات کرے اور نوجوانوں کو بینر نہیں بلکہ روزگار دے۔

یہ سوال اب ٹالنے کا نہیں رہا: کیا یہ نوجوان یونہی ڈگریاں اٹھائے سڑکوں پر دھکے کھاتے رہیں گے؟ یا کبھی ان کے لیے فیکٹریاں، ہنر

کے مراکز اور شفاف نوکریوں کا نظام بنایا جائے گا؟ اگر آج بھی ان آوازوں کو نظر انداز کیا گیا تو نقصان صرف نوجوانوں کا نہیں

ہوگا بلکہ شاہکوٹ کے آنے والے کل کا ہوگا۔ کیونکہ شہر عمارتوں سے نہیں، نوجوانوں سے بنتے ہیں اور نوجوان اگر مایوس ہو جائیں

تو مستقبل بھی خاموش ہو جاتا ہے۔