شمائلہ اسلم
ایس این این نیوز اردو
بیورو چیف پاکستان
سینٹرل جیل لاہور میں قیدیوں کی رہائش اور فلاح و بہبود کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے
ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز توصیف صبیح گوندل کے مطابق جیل میں 5 نئی ڈبل اسٹوری بیرکس تیار کر لی گئیں جن میں 2 ہزار قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔
افتتاحی تقریب میں چیئرمین ٹاسک فورس برائے جیل خانہ جات رانا منان خان اور سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی
نے خصوصی شرکت کی۔ آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر، ایڈیشنل سیکرٹری پریزن رومان بورانہ، ڈی آئی جی محسن
رفیق، اور سپرنٹنڈنٹ جیل اعجاز اصغر بھی اس موقع پر موجود تھے۔
تقریب کے دوران چیئرمین ٹاسک فورس اور سیکرٹری داخلہ نے نئی بیرکس کا جائزہ لیا، پودے لگائے اور اسیران سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سنے۔
Table of Contents
Toggleمفت قانونی امداد کی ہدایات
حکام نے واضح ہدایات جاری کیں کہ جن قیدیوں کے پاس وکیل کی فیس دینے کی استطاعت نہیں، انہیں مفت لیگل ایڈ فراہم کی جائے۔
سہولیات میں اضافہ
سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ہدایت دی کہ:
- موسم کے مطابق گرم کمبل فراہم کیے جائیں
- ذہنی امراض کے شکار قیدیوں کی سائیکالوجسٹ سے باقاعدہ کاؤنسلنگ کرائی جائے
- نئی بیرکس کے قریب پی سی او بوتھ قائم کیے جائیں
- تمام اسیران کو مناسب میڈیکل سہولیات مہیا کی جائیں
جیلوں کو اصلاحی مراکز بنانے کا وژن
چیئرمین ٹاسک فورس رانا منان خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق صوبے بھر کی جیلوں کو اصلاحی مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی جیلوں میں اعلیٰ معیار کے:
کارپٹ، ٹف ٹائلز، فرنیچر، صابن، فینائل، فٹ بال، کپڑے اور ٹرنک تیار ہو رہے ہیں، جن کی بہتر مارکیٹنگ سے قیدیوں کی مدد اور بحالی کے پروگرام کو تقویت مل سکتی ہے۔
“آن لائن ملاقات” ایپ 850 خاندان مستفید
سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ محکمہ داخلہ نے اسیران سے ملاقات کے لیے “ملاقات ایپ” متعارف کروا دی ہے، جس کے ذریعے شہری
گھر بیٹھے ملاقات بک کر سکتے ہیں۔
اب تک 850 سے زائد خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
ایپ پنجاب کی تمام جیلوں کے لیے فعال ہے، جسے گوگل پلے اسٹور سے “آن لائن ملاقات” کے نام سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔
جیلوں کی سیکیورٹی کو جدید بنایا جا رہا ہے
سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ جیل ریفارمز منصوبے کے تحت پنجاب بھر کی جیلوں میں دنیا کے جدید ترین حفاظتی آلات نصب
کیے جا رہے ہیں، تاکہ جیلوں کو مکمل طور پر محفوظ اور جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
