جیکب آباد (عبدالباقی
ایس این این اردو)
جیکب آباد کے علاقے مولاداد کے قریب گاؤں حبیب اللہ جمالی میں ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں مسجد کے پیش امام
پر ایک کم عمر طالب علم سے جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ طالب علم تبارک جمالی نے اپنے وڈیو بیان میں الزام لگایا کہ وہ مسجد میں تعلیم حاصل کر رہا تھا،
جہاں ملزم پیش امام نے دیگر بچوں کو چھٹی دے کر اُسے اکیلا رکھا، کھڑکی بند کرنے کا بہانہ بنایا اور بعد ازاں زیادتی کا نشانہ
بنایا۔ بچے کے مطابق شور مچانے پر اُسے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
ملزم کی شناخت بخش علی بنگلانی کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ مولاداد میں درج کر کے پولیس نے ملزم کو گرفتار
کر لیا، جسے بعد ازاں عدالت میں پیش کیا گیا۔
سیکنڈ سول عدالت کے جج نے ملزم کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ بچے کا ڈی
این اے ٹیسٹ بھی کروا لیا گیا ہے، جس کی رپورٹ آنے کے بعد کیس میں مزید پیش رفت کی جائے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید سندھ کرائم نیوز پڑھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ پر دیگر رپورٹس بھی ملاحظہ کریں۔
