شمائلہ اسلم
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
بیورو چیف پاکستان
ایس این این اردو
بھارتی ریاست اڑیسہ کے ضلع کیونجھر میں دوسری جماعت کی ایک آٹھ سالہ بچی کے ساتھ دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ بچی اسکول میں شام کی کلاسز کے بعد غلطی سے اندر ہی رہ گئی اور اسکول کے عملے نے کمرہ بند کرتے ہوئے یہ چیک نہیں کیا کہ اندر کوئی طالب علم موجود ہے یا نہیں۔
جب بچی نے محسوس کیا کہ دروازہ بند ہو چکا ہے تو وہ گھبراہٹ میں باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسی دوران اس نے کھڑکی سے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن اس کا سر لوہے کی سلاخوں میں پھنس گیا۔ وہ بے بس بچی ساری رات اسی تکلیف دہ حالت میں پھنسی رہی اور کسی کی مدد کے بغیر کلاس روم میں قید رہی۔
صبح جب اسکول کے دیگر بچے اور عملہ واپس آئے تو انہوں نے کلاس روم کے اندر سے رونے کی آوازیں سنیں۔ کھڑکی کے پاس پہنچنے پر انہیں پتہ چلا کہ بچی کا سر پوری رات کھڑکی میں پھنسا رہا۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر مقامی انتظامیہ اور والدین کو دی گئی۔ بعد ازاں اسکول عملے اور مقامی لوگوں کی مدد سے بچی کو نکالا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، واقعے کے بعد بچی کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اس کی حالت کو خطرے سے باہر قرار دیا۔ تاہم وہ ذہنی طور پر شدید صدمے میں ہے کیونکہ اس نے پوری رات خوف اور تکلیف میں گزاری۔
اس افسوسناک واقعے نے اسکول انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ والدین اور مقامی لوگوں نے اسکول کے عملے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وقت پر دھیان دیا جاتا تو یہ خوفناک صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
تعلیمی ماہرین اور سماجی کارکنوں نے بھی واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے حادثات کو روکنے کے لیے اسکولوں کو بچوں کی گنتی، کلاس چیکنگ اور سیفٹی پروٹوکولز لازمی اپنانے چاہئیں تاکہ آئندہ کسی بچے کی زندگی خطرے میں نہ پڑے۔
