اسکینڈے نیوین نیوز اردو

بشریٰ بی بی کی گرفتاری اور بچوں کی خاموشی پر سوالات
بشریٰ بی بی کی گرفتاری اور بچوں کی خاموشی پر سوالات

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

حماد کاہلوں


ایس این این نیوز

سیاست میں اختلاف ایک معمول ہے، مگر کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو عوام کے ذہن میں بار بار جنم لیتے ہیں۔ سابق خاتونِ اول

بشریٰ بی بی کے معاملے میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔

جب وہ اقتدار کے ایوانوں میں تھیں تو ان کے اثر و رسوخ اور سرگرمیوں کا چرچا پورے پنجاب میں سنائی دیتا تھا، مگر آج جب وہ

جیل میں ہیں تو ایک سوال شدت سے اٹھتا ہے:


کیا ان کے بچوں کی جانب سے کبھی ان کی رہائی کے لیے کوئی واضح آواز سامنے آئی؟

عوام یہ دیکھنے کے منتظر تھے کہ کم از کم ایک علامتی احتجاج، بیان یا قانونی جدوجہد کے ذریعے والدہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا

اظہار کیا جائے، مگر ایسی کوئی نمایاں سرگرمی سامنے نہیں آ سکی۔

یہ صورتحال کئی حلقوں میں تشویش اور حیرت کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ عام معاشرتی اقدار میں والدین، بالخصوص

ماں کے لیے اولاد کی آواز کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔

یہ سوال اب محض سیاسی نہیں رہا بلکہ ایک اخلاقی اور سماجی بحث کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ مشکل وقت میں

خاموشی کو کیسے دیکھا جائے؟


کیا یہ حکمتِ عملی ہے یا بے حسی—اس کا فیصلہ تاریخ اور عوامی رائے ہی کریں گے۔

مزید سیاسی تجزیے اور اہم تبصرے ہمارے سیاسی خبریں سیکشن میں پڑھیں۔