شاہکوٹ (شاہین اقبال طاہر
تحصیل رپورٹر،
ایس این این اردو)
یہ خدانخواستہ کوئی آگ لگنے کا منظر نہیں، مگر یہ اُن غریب باربی کیو سیٹ اپ مالکان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف
ضرور ہے، جنہیں حکومتی ہدایات کے تحت زبردستی کاروبار بند کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ مؤقف یہ اختیار کیا گیا کہ کوئلوں
کے دھوئیں سے فضا آلودہ ہو رہی ہے، اسی بنیاد پر 15 فروری تک تمام باربی کیو سیٹ اپس بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
لیکن اگر ذرا سانگلہ بازار اور شاہکوٹ کی بعض دکانوں پر نظر ڈالی جائے، جہاں دن رات بھٹیوں اور مشینوں سے دھواں نکلتا
ہے، تو ایک فطری سوال جنم لیتا ہے:
کیا یہ دھواں فضا کو صاف رکھ رہا ہے؟
یا ماحولیاتی آلودگی صرف غریب کے کوئلوں سے ہی پھیلتی ہے؟
یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ قوانین کا اطلاق یکساں نہیں۔ جن کے پاس سفارش، طاقت یا اثر و رسوخ
ہے، اُن کے لیے قانون نرم ہے، جبکہ غریب کی روزی پر فوراً تالا لگا دیا جاتا ہے۔
باربی کیو سیٹ اپس بند ہونے سے نہ صرف سینکڑوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں بلکہ ان کے گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑ گئے
ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ اپنی جگہ ایک اہم مسئلہ ہے، مگر کیا اس کا حل صرف کمزور طبقے کو قربانی کا بکرا بنانا ہے؟
یہ سب دیکھ کر وہی پرانی کہاوت سچ ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہے:
“جس کی لاٹھی، اس کی بھینس”
اگر قوانین واقعی عوام کی بہتری کے لیے ہیں تو ان کا اطلاق امیر و غریب، چھوٹے بڑے، سب پر یکساں ہونا چاہیے، ورنہ یہ
اقدامات اصلاح نہیں بلکہ ناانصافی کہلائیں گے۔
