اسکینڈے نیوین نیوز اردو

ایران میں احتجاج جاری، 22 افراد ہلاک بی بی سی فارسی
ایران میں احتجاج جاری، 22 افراد ہلاک بی بی سی فارسیایران میں احتجاج جاری، 22 افراد ہلاک بی بی سی فارسی

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

رفعت کوثر


ایس این این اردو

ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ بی بی سی فارسی

کے مطابق حالیہ احتجاج کے دوران کم از کم 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن کی شناخت بھی کر لی گئی ہے۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہروں کے دوران املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے

اقدامات کا مقصد امریکہ کو خوش کرنا ہے۔ انہوں نے مظاہرین کو ’تخریب کار‘ قرار دیتے ہوئے سخت حکومتی کارروائی کا انتباہ

بھی جاری کیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ملک میں جاری احتجاج پر اپنے پہلے ردعمل میں مظاہرین کا شکریہ ادا کیا

ہے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کی بندش، مظاہرین پر تشدد اور عوام کی آواز دبانے پر شدید تنقید کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران میں احتجاجی مظاہرے گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہیں، جبکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کیے جانے

کے باعث عوامی رابطے شدید متاثر ہو چکے ہیں۔ بی بی سی نے جنوب مشرقی ایران کے شہر زاہدان سمیت کم از کم 16 دیگر

قصبوں میں احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز دیکھنے کی تصدیق کی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کو قتل

کیا تو ایران کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم برطانیہ نے اس موقف کی براہ راست حمایت نہیں کی اور ایرانی حکام

سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ادھر اماراتی ایئرلائن فلائی دبئی نے غیر مستحکم صورتحال کے پیش نظر ایران جانے والی اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل

کرنے کی تصدیق کی ہے۔

ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق مزید خبریں ہمارے عالمی امور سیکشن میں پڑھیں۔