اسکینڈے نیوین نیوز اردو

ابوریحان البیرونی کی تاریخی لیبارٹری پنڈ دادن خان میں کھنڈر
ابوریحان البیرونی کی تاریخی لیبارٹری پنڈ دادن خان میں کھنڈر

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

شاہین اقبال طاہر


تحصیل رپورٹر، شاہ کوٹ،

ایس این این اردو

پنڈ دادن خان، ضلع جلہم میں واقع یہ کھنڈر کوئی عام کھنڈر نہیں بلکہ دسویں صدی کے عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی

کی لیبارٹری ہے۔

یہاں البیرونی نے پہاڑوں کی چوٹیوں اور دیگر قدرتی علامات کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا درست اندازہ لگایا تھا۔

ان کے حساب کے مطابق زمین کا قطر 3928.77 کلومیٹر تھا، جبکہ موجودہ جدید ناسا کی کیلکولیشن کے مطابق یہ 3847.80

کلومیٹر ہے، یعنی محض 81 کلومیٹر کا فرق۔

ابوریحان البیرونی نے ڈھائی سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں اور وہ محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے۔ افغان لشکر کے

ساتھ کلرکہار آنے پر افغان حکمرانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر یہ لیبارٹری تعمیر کروائی۔

تاریخی ورثے کی حالت زار

یہ مقام آج نظرانداز اور ویران پڑا ہے۔ یہاں صرف چند لوگ جانور چرانے کے لیے جاتے ہیں، جبکہ عام عوام اور طلبہ اس تاریخی

ورثے سے محروم ہیں۔ راستہ بھی خراب ہے اور اسے پہنچنے کے لیے تقریباً ایک گھنٹے کا پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ اس تاریخی مقام کی بحالی اور تحفظ کرے، اور تعلیمی ادارے یہاں Study

Tours کروائیں تاکہ طلبہ علمی اور تاریخی فوائد حاصل کر سکیں۔ موجودہ سٹڈی ٹورز جیسے مری اور نتھیا گلی صرف تفریح

تک محدود ہیں اور تعلیمی مقاصد پورے نہیں کرتے۔

ابوریحان البیرونی کی یادگار

ابوریحان البیرونی کی وفات 1050 میں غزنی، افغانستان میں ہوئی اور وہیں آسودہ خاک ہیں۔ 1974 میں سوویت یونین نے ان پر

ایک فلم بھی بنائی تھی جس کا نام تھا “ابو ریحان البیرونی”۔

یہ تاریخی مقام نہ صرف پاکستان کا علمی ورثہ ہے بلکہ انسانی عقل اور سائنس کی تاریخ میں بھی اہمیت رکھتا ہے، جس کی

حفاظت ہر شہری اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔